Sunday, 6 December 2020

سفر ہے اس میں سائے کی طلب کیا

 سفر ہے اس میں سائے کی طلب کیا

چلا ہوں دھوپ میں آرام اب کیا

میں اپنے باپ کے تابع کہاں تھا

اگر بیٹا ہے نا فرمان عجب کیا

چلو سب مان لیں شرطیں تمہاری

بہانہ حِیل و حُجت کا ہے اب کیا

مِرا سب کچھ ادھورا رہ گیا ہے

نہ آیا مدعا یہ تا بہ لب، کیا؟

محبت میں لٹا بیٹھا ہوں سب کچھ

بتاؤ جان ہی لے لو گے اب کیا

لبوں پہ جاں مچلتی ہو گی جس دم

مجھے تم دیکھنے آؤ گے تب، کیا؟

پڑھا ہے میں نے چہرے پر تمہارے

اکارت ہو گئی محنت وہ سب کیا

محبت میں مجھے آیا نہ ہر گز

قرینہ کیا، سلیقہ کیا ہے، ڈھب کیا

کھڑے ہیں ہاتھ باندھے لفظ باندی

رشید حسرت کے شعروں میں غضب کیا


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment