Monday, 12 December 2016

جائے خرد نہیں ہے کہ فرزانہ چاہئے

جائے خرد نہیں ہے کہ فرزانہ چاہیے
ہُو کا مقام ہے، کوئی دیوانہ چاہیے
ہے اس میں قید شہر نہ ویرانہ
بہرِ فراغ طبعِ فقیرانہ چاہیے
گنجائشِ تصور یک لفظ بھی نہیں
یاں ہر کسی کے واسطے افسانہ چاہیے
جب تک کہ ہیں زمانے میں ہم سے خراب لوگ
مسجد کہیں کہیں کوئی مے خانہ چاہیے
رکھتے ہیں انجؔم آپ جو اوروں کے واسطے
اپنے لیے بھی تو وہی ویرانہ چاہیے

انجم رومانی

No comments:

Post a Comment