تو پھر ایسا کبھی نہ کرنا
شاید کوئی تمہیں بلائے
یا تم لوٹ کے آنا چاہو
تو پھر ایسا کبھی نہ کرنا
جانا اگر ضروری بھی ہو
جاتے جاتے دروازے کو
اپنے ہاتھوں بند نہ کرنا
ایسا کرنے والے اکثر
باہر ہی رہ جاتے ہیں
یادوں کی دہلیز پہ گم سم
پہروں بیٹھے رہتے ہیں
برسوں جیتے رہتے ہیں اور
صدیوں تنہا رہتے ہیں
سلیم کاوش
No comments:
Post a Comment