Friday, 7 January 2022

تو پھر ایسا کبھی نہ کرنا

 تو پھر ایسا کبھی نہ کرنا


شاید کوئی تمہیں بلائے

یا تم لوٹ کے آنا چاہو

تو پھر ایسا کبھی نہ کرنا

جانا اگر ضروری بھی ہو

جاتے جاتے دروازے کو

اپنے ہاتھوں بند نہ کرنا

ایسا کرنے والے اکثر

باہر ہی رہ جاتے ہیں

یادوں کی دہلیز پہ گم سم

پہروں بیٹھے رہتے ہیں

برسوں جیتے رہتے ہیں اور

صدیوں تنہا رہتے ہیں


سلیم کاوش

No comments:

Post a Comment