کھڑکی
محبت بھیگتی بارش کے جیسے
قطرہ قطرہ رس رہی ہے
کوئی گٹھڑی پڑی ان زرد دھبوں سے بھری ہے
یہاں موسم کی پہلی پہلی بارش ہو رہی ہے
گرد بھرتی، شور کرتی، بہہ رہی ہے
خوف کے بادل کے پیچھے
کوئی ایسی چیخ دل میں گونجتی ہے
یہاں ماتم بپا ہے
کہ جیسے کوئی کیکٹس کے اڑے
انجان رنگوں میں ڈبو کر ڈوب جائے
کسی کا ہو نہ پائے
خدارا بند کر دو
کرب کا آنچل سمیٹو
گرہ دامن سے کھولو
اور اپنی آنکھ کی پٹی سے لپٹی
سیاہ چٹھی جھٹک دو، بند کر دو
یہ بارش جانے کب سے رو رہی ہے
تمثیل حفصہ
No comments:
Post a Comment