Friday, 7 January 2022

محبت بھیگتی بارش کے جیسے

 کھڑکی


محبت بھیگتی بارش کے جیسے

قطرہ قطرہ رس رہی ہے

کوئی گٹھڑی پڑی ان زرد دھبوں سے بھری ہے

یہاں موسم کی پہلی پہلی بارش ہو رہی ہے

گرد بھرتی، شور کرتی، بہہ رہی ہے

خوف کے بادل کے پیچھے

کوئی ایسی چیخ دل میں گونجتی ہے

یہاں ماتم بپا ہے

کہ جیسے کوئی کیکٹس کے اڑے

انجان رنگوں میں ڈبو کر ڈوب جائے

کسی کا ہو نہ پائے

خدارا بند کر دو

کرب کا آنچل سمیٹو

گرہ دامن سے کھولو

اور اپنی آنکھ کی پٹی سے لپٹی

سیاہ چٹھی جھٹک دو، بند کر دو

یہ بارش جانے کب سے رو رہی ہے


تمثیل حفصہ

No comments:

Post a Comment