Tuesday, 1 February 2022

بنتے بنتے رک جاتے ہیں کام کئی

 بنتے بنتے رک جاتے ہیں کام کئی

ٹل جاتے ہیں خطرے اور انجام کئی

کرداروں میں جب جب باتیں ہوتی ہیں

یاد آتے ہیں بهولے بسرے نام کئی

اُمیدوں کا سونا پیتل بنتا ہے

ہم نے دیکھے ایسے صبح و شام کئی

ہم نے دیکھے ایسے صبح و شام کئی

کھلتے کھلتے راز کئی کھل جاتے ہیں

ملتے ملتے مل جاتے ہیں الزام کئی

شہر میں نامعلوم افراد کے آنے سے

لوئے ہوئے ہیں گم سُم، گم، گمنام کئی

میرا ہر اک شعر صحیفہ لگتا ہے

مجھ پہ فکر کے ہوئے ہیں الہام کئی

لفظوں کے گھاؤ تو گہرے تھے کاوش

اک مُسکان سے دور ہوئے آلام کئی


سلیم کاوش

No comments:

Post a Comment