بنتے بنتے رک جاتے ہیں کام کئی
ٹل جاتے ہیں خطرے اور انجام کئی
کرداروں میں جب جب باتیں ہوتی ہیں
یاد آتے ہیں بهولے بسرے نام کئی
اُمیدوں کا سونا پیتل بنتا ہے
ہم نے دیکھے ایسے صبح و شام کئی
ہم نے دیکھے ایسے صبح و شام کئی
کھلتے کھلتے راز کئی کھل جاتے ہیں
ملتے ملتے مل جاتے ہیں الزام کئی
شہر میں نامعلوم افراد کے آنے سے
لوئے ہوئے ہیں گم سُم، گم، گمنام کئی
میرا ہر اک شعر صحیفہ لگتا ہے
مجھ پہ فکر کے ہوئے ہیں الہام کئی
لفظوں کے گھاؤ تو گہرے تھے کاوش
اک مُسکان سے دور ہوئے آلام کئی
سلیم کاوش
No comments:
Post a Comment