Tuesday, 1 February 2022

ہم کسی بات پر نہیں روتے

 ہم کسی بات پر نہیں روتے

اپنی اوقات پر نہیں روتے

تم اگر ہوتے کربلا والے

جنگ میں مات پر نہیں روتے

صبح کو شام کی نہیں پروا

دن بھی اب رات پر نہیں روتے

زندگی ان پہ ناز کرتی ہے

جو بھی حالات پر نہیں روتے

ہجر کا جشن ہم منائیں کیا

سرد جذبات پر نہیں روتے

ان کا دل دل نہیں ہے پتھر ہے

جو فسادات پر نہیں روتے


فیض الامین

No comments:

Post a Comment