Tuesday, 13 September 2022

تو کر کے عشق ابھی زندہ و سلامت ہے

 تُو کر کے عشق ابھی زندہ و سلامت ہے

یقین مان، یہ تیری بڑی کرامت ہے

میں خود کو یاد ہوں اب تک تو شکر بنتا ہے

مِرے حساب سے یہ ہوش کی علامت ہے

بہت تضاد ہے اس میں ہر ایک پہلو سے

وہ سرد جھیل ہے، جلوہ مگر قیامت ہے

حقیر جان کے وہ ہمکلام ہوتا نہیں

کہ پست سوچ ہے لیکن دراز قامت ہے

ملا جو اس سے فقط اک سوال پوچھوں گا

کِیا جو تُو نے تجھے اس پہ کچھ ندامت ہے؟

تمام عشق گزیدہ چلے ہیں صحرا کو

نمازِ عشق ہے اور قیس کی امامت ہے

عمر! کیا شعر بھی اتنا بڑا ہے کوئی تِرا

کہ جس قدر تِرے دیوان کی ضخامت ہے


عابد عمر

No comments:

Post a Comment