ضد نہ ہٹ دھرمیوں کی قائل ہوں
اپنے ہی درمیان حائل ہوں
اک پرندہ ہوں میں خزاں رُت کا
اس لیے واپسی پہ مائل ہوں
بس یونہی درد سے ملا لی آنکھ
کھل ہی جائے نہ اب کی بار یہ در
سب پہ کھل جائے گا کہ سائل ہوں
کون کہتا ہے میں کہیں بھی نہیں
جب تلک ہیں مِرے مسائل، ہوں
کوئی آواز ہی نہیں کرتی
میں بِنا گھنگھروؤں کی پائل ہوں
کچھ تو منزل بھی دور ہے سیماؔ
کچھ الگ راستوں کی قائل ہوں
سیما نقوی
No comments:
Post a Comment