Sunday, 4 December 2016

ضد نہ ہٹ دھرمیوں کی قائل ہوں

ضد نہ ہٹ دھرمیوں کی قائل ہوں
اپنے ہی درمیان حائل ہوں
اک پرندہ ہوں میں خزاں رُت کا
اس لیے واپسی پہ مائل ہوں
بس یونہی درد سے ملا لی آنکھ
کون کہتا ہے غم سے گھائل ہوں
کھل ہی جائے نہ اب کی بار یہ در
سب پہ کھل جائے گا کہ سائل ہوں
کون کہتا ہے میں کہیں بھی نہیں 
جب تلک ہیں مِرے مسائل، ہوں
کوئی آواز ہی نہیں کرتی
میں بِنا گھنگھروؤں کی پائل ہوں
کچھ تو منزل بھی دور ہے سیماؔ
کچھ الگ راستوں کی قائل ہوں

سیما نقوی

No comments:

Post a Comment