ایک پرچھائیں کا سہارا تھا
اور پندار پر گزارا تھا
اب بہت مطمئن ہے میرا دل
کوئی مجھ میں مجھی سے ہارا تھا
لوگ زندہ تھے داستانوں میں
عکس جتنے تھے کھو گئے پھر بھی
آئینے میں جو تھا ہمارا تھا
کھو گئی گونج پھر پہاڑوں میں
زور سے کیوں نہیں پکارا تھا
عشق اس نے کیا نہ تھا لیکن
ایک امکان تھا جو پیارا تھا
کوئی آگے نکل کے آتا بھی
جیتنا شوق کب ہمارا تھا؟
بے خبر، بے خبر رہے سیماؔ
اک سمجھدار کو اشارا تھا
سیما نقوی
No comments:
Post a Comment