دلِ آشفتگاں سے کھیلتے ہیں
مکیں ہیں اور مکاں سے کھیلتے ہیں
مکاں اور لا مکاں کے درمیان کو
ہٹا کر درمیاں سے کھیلتے ہیں
چلو مٹی بھی ہو جائیں گے اک دن
بلا کا حوصلہ ہے کرگسوں میں
کہاں کے ہیں کہاں سے کھیلتے ہیں
ہمیں کیا فکرِ فردا، ہم وہاں ہیں
جہاں سب جسم و جاں سے کھیلتے ہیں
نہیں ہے عمر جن کی کھیلنے کی
وہ چھپ چھپ کر جہاں سے کھیلتے ہیں
سیما نقوی
No comments:
Post a Comment