Monday, 2 January 2017

اس جہاں میں آ کے ہم کیا کر چلے

اس جہاں میں آ کے ہم کیا کر چلے
بارِ عصیاں سر پہ اپنے دھر چلے
تُو نہ آیا اے مسیحا دم یہاں
ہم اسی حسرت میں آخر مر چلے
اس گلی میں ہم تو کیا خورشید بھی 
ڈر کے مارے کانپتا تھر تھر چلے
اس قدر پیکِ صبا میں دم کہاں
ساتھ اس آوارہ کے دم بھر چلے
لے چلے کیا اس چمن سے غنچہ ساں
ہم تو کیسہ اپنا خالی کر چلے
ذکرِ ابرو کا چلے تیرے جہاں
کیا عجب تلوار واں اکثر چلے
دم نہ مارا ہم نے تیرے عشق میں
سر پہ آرے بھی ہمارے گر چلے
اور تو چھوڑا یہیں کا سب یہیں
ایک تیرا داغ ہم لے کر چلے
دل ہی قابو میں نہیں جب اے ظفرؔ
تم وہاں کس کے بھروسے پر چلے

بہادر شاہ ظفر

No comments:

Post a Comment