لوگ کہتے ہیں کہ وہ تم سے قریں رہتے ہیں
واہ ری بے خبری! ہم بھی یہیں رہتے ہیں
رہتے اک جا نہیں آوارہ تِرے جوں خورشید
صبح رہتے ہیں کہیں، شام کہیں رہتے ہیں
جلوہ دکھلاوے کبھی اپنا اٹھا کر پردہ
دل میں بستے ہیں ہمارے صنم کافر کیش
خانۂ کعبہ میں یہ دشمنِ دیں رہتے ہیں
ساتھ لے جاتے ہیں جو خاک میں بیتابئ دل
خاک آرام سے وہ زیرِ زمیں رہتے ہیں
تم کبھی راہ پہ بھی آؤ کہ جوں نقشِ قدم
چشم بر راہ کئی خاک نشیں رہتے ہیں
شور و فریاد سے دلہائے ستم کش کے ظفؔر
روز ہنگامے سرِ چرخِ بریں رہتے ہیں
بہادر شاہ ظفر
No comments:
Post a Comment