بکواس کو جانے دے نہ اتنا بھی بکے جا
ناصح تری بک بک سے تو بس پک گیا بھیجا
اس عارض تاباں کے تپِ رشک سے خورشید
تپنا تری قسمت میں ہے ہر روز تپے جا
اب دیکھیے کیا ہوتا ہے تقدیر کا لکھا
محفوظ خدا عشقِ جگر خوار سے رکھے
یہ وہ ہے کہ کھا جائے ہے اک دم میں کلیجا
وہ سن چکے احوال مِرا پاس بٹھا کر
جو دور ہی سے کہویں کہ چل دور پرے جا
مقدور کسے ہے جو تِرے سامنے بولے
جو آئے تِرے جی میں تو باذوق کہے جا
جو آپ کی ہے بات بجا ہے وہ بجا ہے
کہتا ہے ظفؔر کون تمہیں کہتے ہو بے جا
بہادر شاہ ظفر
No comments:
Post a Comment