کبھی بن سنور کے جو آ گئے تو بہارِ حسن دِکھا گئے
میرے دل کو داغ لگا گئے، یہ نیا شگوفہ کھِلا گئے
کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل، کوئی کیوں کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل،۔ وہ دکان اپنی بڑھا گئے
مِرے پاس آتے تھے دم بدم، وہ جدا نہ ہوتے تھے ایک دم
جو ملاتے تھے مِرے منہ سے منہ، کبھی لب سے لب کبھی دل سے دل
جو غرور تھا انہیں یہ تھا کہ وہ سبھی غروروں کو ڈھا گئے
بندھے کیوں نہ آنسوؤں کی جھڑی کہ یہ حسرت ان کے گلے پڑی
وہ جو کاکلیں تھیں بڑی بڑی،۔ وہ انہی کے پیچ میں آ گئے
بہادر شاہ ظفر
No comments:
Post a Comment