مِری جانب سے غیروں نے لگایا کچھ نہ کچھ ہو گا
نہ آیا وہ تو اس کے دل میں آیا کچھ نہ کچھ ہو گا
تِری تیغِ ستم کے جو مزے سے زخم کھاتے ہیں
مزا ان کو محبت نے چکھایا کچھ نہ کچھ ہو گا
خبر جب لائی ہو گی اس گلِ خنداں کے آنے کی
لڑے ہیں مے کدہ میں آج جو یوں شیشہ و ساغر
کرشمہ چشمِ ساقی نے دکھایا کچھ نہ کچھ ہو گا
نہ ڈھونڈا اور نہ پایا ہم نے کچھ اس بحرِ ہستی میں
وگرنہ جس نے ڈھونڈا ہو گا، پایا کچھ نہ کچھ ہو گا
مِرے خط کے جو اس نے بِن پڑھے پرزے کئے قاصد
کسی نے میری جانب سے پڑھایا کچھ نہ کچھ ہو گا
سنا میں نے کٹی ان کو بھی ساری رات آنکھوں میں
کسی نے میرا افسانہ سنایا کچھ نہ کچھ ہو گا
بنا کر قصر کیا نازاں ہے، یہ تو سوچ اے منعم
کہ پہلے بھی کسی نے یاں بنایا کچھ نہ کچھ ہو گا
الم ہو، رنج و غم ہو، داغ ہو یا درد ہو دل میں
دلآزاروں سے دل ہم نے لگایا کچھ نہ کچھ ہو گا
کہا ہو گا نہ گرچہ صاف حالِ دل ظفرؔ اپنا
پر ان کو رمز والوں نے جتایا کچھ نہ کچھ ہو گا
بہادر شاہ ظفر
No comments:
Post a Comment