Wednesday, 6 April 2016

دن پھر آئے ہیں باغ میں گل کے

دن پھر آئے ہیں باغ میں گُل کے
بُوئے گُل ہے سُراغ میں گُل کے
دلِ ویراں میں دوستوں کی یاد
جیسے جگنو ہوں داغ میں گُل کے
کیسی آئی بہار اب کے برس
بُوئے خوں ہے ایاغ میں گُل کے
اب تو رُتوں میں خاک اڑتی ہے
سب کرشمے تھے باغ میں گُل کے
آنسوؤں کے دئیے جلا ناصرؔ
دَم نہیں اب چراغ میں گُل کے

ناصر کاظمی

No comments:

Post a Comment