Wednesday, 6 April 2016

نے ہجر چاہتا ہوں نہ وصل حبیب کو

نَے ہجر چاہتا ہوں نہ وصلِ حبیب کو
یا رب کہیں ہو صبر دلِ نا شکیب کو
وے بھی تو آدمی ہیں کہ جن سے تمہیں ہے ربط
کیا شکوہ تم سے،۔ روئیے اپنے نصیب کو 
اپنے لیے کہے ہے تمہیں کون، کچھ کرو
لیکن بہت برا ہے ستانا غریب کو
اصلاح کا جنوں کی مِرے نِت اسے ہے فکر
یہ کیا دِوان پن ہے الٰہی طبیب کو
بلبل نہ کر دراز زباں تُو کہ گُل کے یاں
خاموشی پر قفا سے نکالیں ہیں جیب کو
آدابِ ناز جن نے سکھائے تمہیں ہیں شوخ
مقدور ہو تو دیجے ادب اس ادیب کو
قائم سخن سرا ہے وہ اس ڈھنگ سے بھلا
تَیں بولتے سنا ہے بہت عندلیب کو

قائم چاند پوری

No comments:

Post a Comment