بھلا ہے گر ہوسِ عشق بو الہوس نہ کرے
کہ جو پتنگ کا ہے کام وہ مگس نہ کرے
نہیں ہے طاقتِ پرواز آہ، اے صیاد
خدا کرے کہ تُو اب وا درِ قفس نہ کرے
دواں ہے قافلۂ اشک سوئے ملکِ عدم
یہ کون بادہ پرستی ہے ساقئ گل فام
جو جام مے تِرے ہاتھوں سے لے وہ بس نہ کرے
فراقِ یار میں تنکا بنا ہے سوکھ کے تن
ہواۓ عشق یہ برباد مثلِ خس نہ کرے
جو اس کی جان پہ گزرے ہے وہ ہی جانے ہے
خدا کسی کو جہاں میں کسی کے بس نہ کرے
کمندِ زلفِ بتاں میں پھنسا یہ دل بے وجہ
ظفؔر وہ کیونکر رہائی کی اب ہوس نہ کرے
بہادر شاہ ظفر
No comments:
Post a Comment