فلمی گیت
یہ جو چلمن ہے دشمن ہے ہماری
کتنی شرمیلی دلہن ہے ہماری
یہ جو چلمن ہے
دوسرا اور کوئی یہاں کیوں رہے
حسن اور عشق کے درمیان کیوں رہے
یہ جو آنچل ہے شکوہ ہے ہمارا
کیوں چھپاتا ہے چہرہ یہ تمہارا
یہ جو چلمن ہے
کیسے دیدار عاشق تمہارا کرے
رخِ روشن کا کیسے نظارا کرے
او اشارہ کرے، ہاں پکارا کرے
یہ جو گیسو ہیں بادل ہیں قسم سے
کیسے بکھرے ہیں گالوں پے صنم کے
یہ جو چلمن ہے
رخ سے پردہ ذرا جو سرکنے لگا
اف یہ کم بخت دل کیوں دھڑکنے لگا
ہاں بھڑکنے لگا، دم اٹکنے لگا
یہ جو دھڑکن ہے دشمن ہے ہماری
کیسے دل سمبهلے الجھن ہے ہماری
یہ جو چلمن ہے دشمن ہے ہماری
آنند بخشی
Zabardast
ReplyDelete