Tuesday, 3 January 2017

یہ جو چلمن ہے دشمن ہے ہماری

فلمی گیت

یہ جو چلمن ہے دشمن ہے ہماری 
کتنی شرمیلی دلہن ہے ہماری 
یہ جو چلمن ہے

دوسرا اور کوئی یہاں کیوں رہے
حسن اور عشق کے درمیان کیوں رہے 
یہ یہاں کیوں رہے، ہاں جی ہاں کیوں رہے 
یہ جو آنچل ہے شکوہ ہے ہمارا 
کیوں چھپاتا ہے چہرہ یہ تمہارا 
یہ جو چلمن ہے

کیسے دیدار عاشق تمہارا کرے
رخِ روشن کا کیسے نظارا کرے 
او اشارہ کرے، ہاں پکارا کرے
یہ جو گیسو ہیں بادل ہیں قسم سے
کیسے بکھرے ہیں گالوں پے صنم کے 
یہ جو چلمن ہے

رخ سے پردہ ذرا جو سرکنے لگا 
اف یہ کم بخت دل کیوں دھڑکنے لگا
ہاں بھڑکنے لگا، دم اٹکنے لگا 
یہ جو دھڑکن ہے دشمن ہے ہماری 
کیسے دل سمبهلے الجھن ہے ہماری 
یہ جو چلمن ہے دشمن ہے ہماری

آنند بخشی

1 comment: