کبھی چہرے کبھی آنکھوں سے بیاں ہوتا ہے
عشق کو لاکھ چھپاؤ، یہ عیاں ہوتا ہے
ہے عجب بات کہ اب تیرے کرم کا چرچا
جہاں ہونا ہی نہیں تھا، یہ وہاں ہوتا ہے
یاد جب اسکی مِرے دل میں کبھی آتی ہے
وہ جو کرتا ہے بہت اپنی انا کے دعوے
اسکے ماتھے پہ بھی سجدوں کا نشاں ہوتا ہے
میں رضیؔ اس سے اکیلے میں بہت لڑتا ہوں
ہجر میں بھی تو رفاقت کا گماں ہوتا ہے
رضی الدین رضی
No comments:
Post a Comment