Wednesday, 14 December 2016

عشق میں آ عجب مزا دیکھا

عشق میں آ عجب مزا دیکھا
خویش و بے گانہ آشنا دیکھا
نکتۂ انما سے واقف ہو
چہرۂ یار جا بجا دیکھا
بلکہ یہ بولنا تکلف ہے
ہم نے اس کو سنا ہے یا دیکھا
دیکھتا آپ ہی، سنے ہے آپ
نہ کوئی اس کا ماسوا دیکھا
دید اپنی کی تھی اسے خواہش
آپ کو ہر طرح بنا دیکھا
صورتِ گل میں کھل کھلا کے ہنسا
شکلِ بلبل میں چہچہا دیکھا
شمع ہو کر کے اور پروانہ
آپ کو آپ میں جلا دیکھا
کر کے دعویٰ کہیں اناالحق کا
بر سرِ دار وہ کھنچا دیکھا
تھا وہ برتر شما و ما سے نیازؔ
پھر وہی اب شما و ما دیکھا

شاہ نیاز بریلوی

No comments:

Post a Comment