Wednesday, 14 December 2016

کس قدر سلیقے سے خود پہ وار کرتے ہیں

کس قدر سلیقے سے خود پہ وار کرتے ہیں
موت اور محبت جو اختیار کرتے ہیں
وہ جو عشق والے تھے ہم بھی انکے جیسے ہیں
انتظار کرتے تھے، انتظار کرتے ہیں
ہجر کی اذیت کو، وصل کی لطافت کو
گر شمار کرنا ہو، بے شمار کرتے ہیں
بے قرار لمحوں میں ‌کیوں سکون ملتا ہے
اور قرار والے کیوں بے قرار کرتے ہیں
وہ جو ہر زمانے میں ‌سنگ سنگ رہتے ہیں
ان کو ہر زمانے میں ‌سنگسار کرتے ہیں
شاعری صحیفہ ہے، عشق ایک مذہب ہے
اس میں بھی گماں پر ہی اعتبار کرتے ہیں

رضی الدین رضی

No comments:

Post a Comment