کس قدر سلیقے سے خود پہ وار کرتے ہیں
موت اور محبت جو اختیار کرتے ہیں
وہ جو عشق والے تھے ہم بھی انکے جیسے ہیں
انتظار کرتے تھے، انتظار کرتے ہیں
ہجر کی اذیت کو، وصل کی لطافت کو
بے قرار لمحوں میں کیوں سکون ملتا ہے
اور قرار والے کیوں بے قرار کرتے ہیں
وہ جو ہر زمانے میں سنگ سنگ رہتے ہیں
ان کو ہر زمانے میں سنگسار کرتے ہیں
شاعری صحیفہ ہے، عشق ایک مذہب ہے
اس میں بھی گماں پر ہی اعتبار کرتے ہیں
رضی الدین رضی
No comments:
Post a Comment