عشق دریا میں سراسر پیاس ہے
اب مِرے قد کے برابر پیاس ہے
اس طرف بھی دو سلگتے پھول ہیں
اور اِدھر بھی تو مقدر پیاس ہے
کربلا ہو،۔ یا ہماری ذات ہو
میں نے پوچھا بارشیں کیسی لگیں
ہنس کے بولی یہ بھی یکسر پیاس ہے
آج چھونا بھی نہیں اس کو رضیؔ
آج پہلے سے بھی بڑھ کر پیاس ہے
رضی الدین رضی
No comments:
Post a Comment