Saturday, 5 March 2022

بھیڑ میں راستہ بنائے گی

 بھیڑ میں راستہ بنائے گی

وہ مِرے ساتھ ساتھ جائے گی

میں کہیں دھول میں اٹا ہوں گا

وہ مجھے جھاڑ کر اٹھائے گی

میں کہاں تک اسے سنبھالوں گا

وہ کہاں تک مجھے چھپائے گی

تیز چلتے ہوئے مِرے ہمراہ

وہ پسینے میں بھیگ جائے گی

اب جسے دیکھ دیکھ جیتا ہوں

شکل وہ دھیان میں نہ آئے گی

میں چلا جاؤں گا گلی سے کہیں

عمر بھر میری چاپ آئے گی

ہاتھ رکھ کر چراغ پر میرا

مجھ کو شاہد وہ آزمائے گی


شاہد اشرف

No comments:

Post a Comment