اس گلی سے جو گیا تھا لوٹ کے آیا نہیں
اک مہک جھونکا ہوا کا لوٹ کے آیا نہیں
بوندیوں کے راگ میں ڈوبی گلی ہے آج بھی
سحر سے کوئی نہ نکلا لوٹ کے آیا نہیں
طلسم ایسا تھا کہ سب کو کھینچ لیتی تھی گلی
اب وہ جادو نہ رہا، یا لوٹ کے آیا نہیں
شام اتری ہے وہاں اب کوئی رکتا ہی نہیں
ایک آوازوں کا غوغا لوٹ کے آیا نہیں
بات تو سن لیجیے انور مری ہم ہیں نہیں
جا چکے سب ان کا سایا لوٹ کے آیا نہیں
انور زاہدی
No comments:
Post a Comment