Saturday, 19 December 2020

یوں مرے پاس سے ہو کر نہ گزر جانا تھا

 یوں مِرے پاس سے ہو کر نہ گزر جانا تھا

بول اے شخص! تجھے کون نگر جانا تھا

روح اور جسم جہنم کی طرح جلتے ہیں

اس سے روٹھے تھے تو اس آگ کو مر جانا تھا

راہ میں چھاؤں ملی تھی کہ ٹھہر سکتے تھے

اِس سہارے کو مگر تنگ سفر جانا تھا

خواب ٹوٹے تھے کہ آنکھوں میں ستارے ناچے

سب کو دامن کے اندھیرے میں اتر جانا تھا

حادَثہ یہ ہے کہ ہم جاں نہ معطر کر پائے

وہ تو خوشبو تھا اسے یوں بھی بکھر جانا تھا


ساقی فاروقی

No comments:

Post a Comment