کر رہا تھا جو انتشار طویل
چاہتا ہو گا اختیار طویل
کب یہ معلوم تھا کہ کتنا ہے
مغربی حرص کا حصار طویل
کوئی تاریک غار ہے دنیا
ہر قدم پر بلائیں، غار طویل
جنگ سے کر کے مجھ کو خوفزدہ
اس کو کرنا ہے اقتدار طویل
میں نے انصاف کی تمنا کی
ہو گیا میرا انتظار طویل
تم نہیں آئے اور اسی دن سے
ہو گئی شام بے قرار طویل
ایک تو درد سے بھری ہے اور
ہوتی جاتی ہے بار بار طویل
فرحت عباس شاہ
No comments:
Post a Comment