Saturday, 19 December 2020

کبھی پیغام سکوں تیری نظر نے نہ دیا

کبھی پیغامِ سکوں تیری نظر نے نہ دیا

زِندگی چھین لی اِس طرح کہ مرنے نہ دیا

تھی بہارِ گُلِ جلوہ کہ ہوا کا جھونکا

جس نے دامن نگہِ شوق کا بھرنے نہ دیا

دی جِس احساس نے مرنے کی تمنا ہم کو

اسی احساس کی رعنائی نے مرنے نہ دیا

جانے کیا قصۂ غم تھا کہ نظر نے تیری

بھُولنے بھی نہ دیا یاد بھی کرنے نہ دیا

عمر بھر ایک تمنائے سکوں نے ہم کو

دِل کی بیتابی کا اندازہ بھی کرنے نہ دیا


مشفق خواجہ

No comments:

Post a Comment