Monday, 7 November 2016

ہمیں لکھنے کی مہلت ہی کہاں ہو گی

ہمیں لکھنے کی مہلت ہی کہاں ہو گی
محبت اس لمحے ہو گی، کہاں ہو گی
کتابوں میں رکھے جب پھول مہکیں گے 
تو خوشبو اصل پھولوں کی کہاں ہو گی
نہ جانے وقت وہ دن کون سا ہو گا 
وہ عشق و ہجر بے تابی کہاں ہو گی
نئے شب روز اور چہرے نئے ہونگے 
ہوائے صبح شتابی کہاں ہو گی
نہیں ہوں گے جو انور ہم یہاں پر 
کہانی وہ تِری میری کہاں ہو گی 

انور زاہدی

No comments:

Post a Comment