ہمیں لکھنے کی مہلت ہی کہاں ہو گی
محبت اس لمحے ہو گی، کہاں ہو گی
کتابوں میں رکھے جب پھول مہکیں گے
تو خوشبو اصل پھولوں کی کہاں ہو گی
نہ جانے وقت وہ دن کون سا ہو گا
نئے شب روز اور چہرے نئے ہونگے
ہوائے صبح شتابی کہاں ہو گی
نہیں ہوں گے جو انور ہم یہاں پر
کہانی وہ تِری میری کہاں ہو گی
انور زاہدی
No comments:
Post a Comment