Monday, 7 November 2016

آنکھ کنارے خواب سمندر جاگے گا

آنکھ کنارے خواب سمندر جاگے گا
سینے میں اک ڈوبتا منظر جاگے گا
خواب جگانے والا موسم اس کا ہے
جو بھی ہاتھ پہ سورج رکھ کر جاگے گا
سچے سُر اور سچی آنکھیں رب جیسی
جب محسوس کرے گا پتھر جاگے گا
گلیوں میں اب رات ٹہلنے اترے گی
دل میں پھر تنہائیوں کا ڈر جاگے گا
آنکھ سے پھر اب نیند کا جھگڑا ہونا ہے
حرف و خیال کے پاؤں میں چکر جاگے گا
پلکیں اوڑھ کے سو جائے گا ہر منظر
اور اکیلا چاند فلک پر جاگے گا

ایوب خاور

No comments:

Post a Comment