جاگے تھے حساب سے زیادہ
پیاسے ہیں سراب سے زیادہ
موسم کے عذاب جھیلنا ہیں
خوشبو کو گلاب سے زیادہ
دیکھیں گی ہمیشہ میری آنکھیں
کیا لمحۂ وصل تھا کہ جس میں
پڑھنا تھا نصاب سے زیادہ
جینے کو ترس رہے ہیں خاورؔ
اک خواب ہے خواب سے زیادہ
ایوب خاور
No comments:
Post a Comment