Monday, 7 November 2016

جاگے تھے حساب سے زیادہ

جاگے تھے حساب سے زیادہ
پیاسے ہیں سراب سے زیادہ
موسم کے عذاب جھیلنا ہیں
خوشبو کو گلاب سے زیادہ
دیکھیں گی ہمیشہ میری آنکھیں 
تجھ کو تِرے خواب سے زیادہ 
کیا لمحۂ وصل تھا کہ جس میں 
پڑھنا تھا نصاب سے زیادہ 
جینے کو ترس رہے ہیں خاورؔ 
اک خواب ہے خواب سے زیادہ

ایوب خاور

No comments:

Post a Comment