Sunday, 9 October 2016

تمہیں دیکھ کے یہ گماں ہوا

تمہیں دیکھ کے یہ گماں ہوا 
دھواں ہوئی
کسی عمر میں
کبھی اس سے پہلے
ملے تھے ہم
کسی شہر میں

کہیں گم ہوا
کسی رات میں
جو نہیں کٹی
کسی سحر میں
جو گزر گیا
کسی عمر میں
جو نہیں رہی
کسی زہر میں
جو لہو ہوا
کسی قہر میں
جو سزا بنی
کسی خواب میں
جو ہوا ہوا
کسی صبح میں
جو نہیں رہی

انور زاہدی

No comments:

Post a Comment