تمہیں دیکھ کے یہ گماں ہوا
دھواں ہوئی
کسی عمر میں
کبھی اس سے پہلے
ملے تھے ہم
کسی شہر میں
کہیں گم ہوا
کسی رات میں
جو نہیں کٹی
کسی سحر میں
جو گزر گیا
کسی عمر میں
جو نہیں رہی
کسی زہر میں
جو لہو ہوا
کسی قہر میں
جو سزا بنی
کسی خواب میں
جو ہوا ہوا
کسی صبح میں
جو نہیں رہی
دھواں ہوئی
کسی عمر میں
کبھی اس سے پہلے
ملے تھے ہم
کسی شہر میں
کہیں گم ہوا
کسی رات میں
جو نہیں کٹی
کسی سحر میں
جو گزر گیا
کسی عمر میں
جو نہیں رہی
کسی زہر میں
جو لہو ہوا
کسی قہر میں
جو سزا بنی
کسی خواب میں
جو ہوا ہوا
کسی صبح میں
جو نہیں رہی
انور زاہدی
No comments:
Post a Comment