Friday, 26 March 2021

منظر منظر خوف کے سائے دور تلک تنہائی ہے

 منظر منظر خوف کے سائے، دُور تلک تنہائی ہے

ہونٹوں پر ہیں چُپ کے تالے سوچ بھی آج پرائی ہے

رات کی خاموشی کو چیرے انجانے قدموں کی چاپ

اندھی سی بستی میں نہ جانے کس کی شامت آئی ہے

گرم ہوا کے جھونکوں سے اب بلبل کا دم گُٹھتا ہے

پھولوں کے آنگن میں آخر کس نے آگ بچھائی ہے

بیچ بھنور میں آس کا دامن چُھوٹ گیا جب ہاتھوں سے

کشتی پوچھے ڈُوبنے والے سے؛ کتنی گہرائی ہے

وعدوں کے سب راگ ہیں جھُوٹے، باتوں کے سُر بے ہنگم

کیسے وفا کے نغمے سنائیں، ٹُوٹی ہوئی شہنائی ہے

شبنم سے شہرت کا رشتہ بات انوکھی ہے، لیکن

وقت نے سُورج کے ہاتھوں اپنی پہچان کرائی ہے


پرویز مانوس

No comments:

Post a Comment