Wednesday, 9 November 2022

جب بھی امید کو کھیتوں میں اگانے نکلے

 جب بھی اُمید کو کھیتوں میں اُگانے نکلے

ہم نے دیکھا اسی مٹی سے خزانے نکلے

شہر کا شہر ہی سڑکوں پہ اُمنڈ آیا تھا

جب بھی پُر سوز عبارت کو سنانے نکلے

اپنی خواہش کا بھی انداز عجب ہے یارو

ہم تو صحراؤں میں اک شہر بسانے نکلے

ہم نے ماضی کے خیالوں کو کھنگالا جب بھی

ان کے اندر سے کئی زخم پرانے نکلے

مُدتوں جن کے لیے کی ہے قصیدہ گوئی

ان کے لب جب بھی ہِلے دہن سے طعنے نکلے

سنگِ تُربت کا نشاں ان کے جہاں پایا ہے

بس اسی سمت کو سر اپنا جُھکانے نکلے

جن کو کھنڈرات سمجھتے رہے دنیا والے

ان کی بنیاد سے صدیوں کے فسانے نکلے

اے وطن! اس سے بڑی اور وفا کیا ہو گی

لب سے مرتے ہوئے تیرے ہی ترانے نکلے


پرویز مانوس

No comments:

Post a Comment