میں بے صدا نہ جہاں میں کسی طور بھی ہوا
کبھی زباں، کبھی زنجیرِ پا کا شور ہوا
نگوں تو خیر کہاں ہو سکا حریفوں سے
ہر اک محاذ پہ میں سر بلند اور ہوا
ہوا خموش تو حسنِ سخن کی داد ملی
غلاف اترتے چلے جا رہے تھے چہروں سے
نظر نظر میں عجب گفتگو کا دور ہوا
یہ خاکداں کوئی انعام میں نہیں پایا
یہاں قیام ہمارا سزا کے طور ہوا
چھپا دیئے گئے تنہائیوں کے جالے میں
یہ کنجِ شہر، ہمیں مثلِ غارِ ثور ہوا
سید انصر
No comments:
Post a Comment