ابد کنار اجالوں سے ہیں بھرے ہوئے ہم
ہوا کے رحم و کرم پر نہیں دھرے ہوئے ہم
سناں پہ سج کے بھی سچائی کی گواہی دی
ہزار زندوں پہ بھاری رہے مَرے ہوئے ہم
ہجومِ رنگ پہ شعلہ زنی کا شائبہ تھا
بدن نچوڑ کے پلکوں پہ بُور لایا گیا
جڑوں کو کھا گئی دیمک ہرے بھرے ہوئے ہم
زمیں نے کھینچ لیا اوس کی طرح انصرؔ
لرز رہے تھے کسی پات پر دھرے ہوئے ہم
سید انصر
No comments:
Post a Comment