Saturday, 24 December 2016

ابد کنار اجالوں سے ہیں بھرے ہوئے ہم

ابد کنار اجالوں سے ہیں بھرے ہوئے ہم
ہوا کے رحم و کرم پر نہیں دھرے ہوئے ہم
سناں پہ سج کے بھی سچائی کی گواہی دی
ہزار زندوں پہ بھاری رہے مَرے ہوئے ہم
ہجومِ رنگ پہ شعلہ زنی کا شائبہ تھا
گلاب چھو نہ سکے آگ سے ڈرے ہوئے ہم
بدن نچوڑ کے پلکوں پہ بُور لایا گیا
جڑوں کو کھا گئی دیمک ہرے بھرے ہوئے ہم
زمیں نے کھینچ لیا اوس کی طرح انصرؔ
لرز رہے تھے کسی پات پر دھرے ہوئے ہم

سید انصر

No comments:

Post a Comment