اب کے موسم باغ کا منظر سہانہ لے گیا
گل کی خوشبو بلبلوں کا چہچہانا لے گیا
کچھ ہوا برباد میری بے حسی کے نام پر
اور کچھ ورثہ میرا دشمن زمانہ لے گیا
بجلیاں لہراکے چمکی ہیں اسی اک شاخ پر
اب کے میں جس شاخ پر بھی آشیانہ لے گیا
انقلاب وقت کا طوفان جب اٹھا کوئی
اپنی موجوں میں بہا کر اک زمانہ لے گیا
عقل والے کار گاہے امتحاں میں رہ گئے
اور بازی لے گیا تو اک دیوانہ لے گیا
چھین لیتی ہے یہ مجبوری بھی آزادی کبھی
عندلیبوں کو قفس میں آب دانہ لے گیا
وقت کے ہاتھوں ہوا مجبور میں بھی اے رئیس
چل دیا میں بھی جدھر مجھ کو زمانہ لے گیا
رئیس جہانگیرآبادی
No comments:
Post a Comment