Monday, 7 February 2022

اب کے موسم باغ کا منظر سہانہ لے گیا

 اب کے موسم باغ کا منظر سہانہ لے گیا

گل کی خوشبو بلبلوں کا چہچہانا لے گیا

کچھ ہوا برباد میری بے حسی کے نام پر

اور کچھ ورثہ میرا دشمن زمانہ لے گیا

بجلیاں لہراکے چمکی ہیں اسی اک شاخ پر

اب کے میں جس شاخ پر بھی آشیانہ لے گیا

انقلاب وقت کا طوفان جب اٹھا کوئی

اپنی موجوں میں بہا کر اک زمانہ لے گیا

عقل والے کار گاہے امتحاں میں رہ گئے

اور بازی لے گیا تو اک دیوانہ لے گیا

چھین لیتی ہے یہ مجبوری بھی آزادی کبھی

عندلیبوں کو قفس میں آب دانہ لے گیا

وقت کے ہاتھوں ہوا مجبور میں بھی اے رئیس

چل دیا میں بھی جدھر مجھ کو زمانہ لے گیا


رئیس جہانگیرآبادی

No comments:

Post a Comment