Monday, 7 February 2022

دہن کو زخم زباں کو لہو لہو کرنا

 دہن کو زخم زباں کو لہو لہو کرنا

عزیزو سہل نہیں اس کی گفتگو کرنا

کھلے دریچو کو تکنا تو ہاؤ ہو کرنا

یہی تماشہ سرِ شام کو بہ کو کرنا

جو کام مجھ سے نہیں ہو سکا وہ تو کرنا

جہاں میں اپنا سفر مثلِ رنگ و بو کرنا

جہاں میں عام ہیں نکتہ شناسیاں اس کی

تم ایک لفظ میں تشریحِ آرزو کرنا

دلِ تباہ کی ایذا پرستیاں معلوم

جو دسترس میں نہ ہو اس کی جستجو کرنا

میں اس کی ذات سے انکار کرنے والا کون

نہ ہو یقیں تو مجھے اس کے رو بہ رو کرنا

جو حرف لکھنا اسے لوحِ آب پر لکھنا

جو نقش کرنا سر سطحِ آب جو کرنا


پریم کمار نظر

No comments:

Post a Comment