دوست یوں میری وفاؤں کا صلہ دینے لگے
گھر جلا میرا، وہ دامن سے ہوا دینے لگے
جب میں جینا چاہتا تھا لوگ دشمن تھے میرے
موت جب مانگی تو جینے کی دعا دینے لگے
چاہئے ہمت کنارے تک پہنچنے کے لیے
یہ کہاں ممکن کی طوفاں راستہ دینے لگے
منصفوں نے بیگناہوں کو سزائیں دی بہت
کوئی ایسا ہو جو منصف کو سزا دینے لگے
اِک ذرا سچ بات کہنے کی جسارت آئی تھی
سب مجھے اپنے پرائے بد دُعا دینے لگے
دولتِ دنیا نظر میں اپنی کیا لائے رئیس
وہ جسے ایمان کی دولت خدا دینے لگے
رئیس جہانگیرآبادی
No comments:
Post a Comment