آئے وہ دن بھی اور شتاب آئے
بدلے حالات،۔ انقلاب آئے
رہبری ہو سکے گی کیا ان سے
آئے بھی وہ تو محوِ خواب آئے
سر اٹھا کر یہاں چلے نہ کوئی
جانے کب اس پہ کیا عتاب آئے
حاکمِ وقت کے اشارے پر
جو چلا اس کے دن خراب آئے
دیکھیں کب طے ہو منزلِ حالات
جانے کب زیرِ پا رکاب آئے
ہم وہی ہیں کہ ایک زمانے میں
سب محاذوں پہ کامیاب آئے
اپنا منصب جو بھول جائے رئیس
کیوں نہ اس قوم پر عذاب آئے
رئیس جہانگیرآبادی
No comments:
Post a Comment