Saturday, 16 April 2022

بے نام دیاروں سے ہم لوگ بھی ہو آئے

بے نام دیاروں سے ہم لوگ بھی ہو آئے

کچھ درد تھے چن لائے کچھ اشک تھے رو آئے

کچھ پاس نہ تھا اپنے بس آس لیے گھومے

اک عمر کی پُونجی تھی سو اس کو بھی کھو آئے

توہینِ انا بھی کی،۔ تحسینِ رِیا بھی کی

یہ بوجھ بھی ڈھونا تھا یہ بوجھ بھی ڈھو آئے

اک کار نمو برسوں کرتے رہے بِن سوچے

ہم بیج محبت کے صحراؤں میں بو آئے

پہچان کا ہر منظر انجان ہوا آخر

لگتا ہے کئی صدیاں اک غار میں سو آئے


شفیق سلیمی

No comments:

Post a Comment