Saturday, 16 April 2022

انس تو ہوتا ہے دیوانے سے دیوانے کو

انس تو ہوتا ہے دیوانے سے دیوانے کو

کوئی اپنا کے دکھائے کبھی انجانے کو

خودکشی جیسا کوئی جرم نہیں دنیا میں

کوئی بتلاتا نہیں جا کے یہ پروانے کو

ساقیٔ وقت نے جب چھین لی ہاتھوں سے شراب

میں نے ٹکرا دیا پیمانے سے پیمانے کو

خاک زادہ نہیں پیدا ہوا ایسا کوئی

جو حقیقت میں بدل دے مرے افسانے کو

ابرہہ جیسا اگر ہو گیا پیدا کوئی

کیا بچا پائیں گے ہم اپنے خدا خانے کو

ایک مفسد کی یہ پھیلائی ہوئی ہے افواہ

رات بھر شمع سے نفرت رہی پروانے کو


عبرت بہرائچی

No comments:

Post a Comment