Sunday, 19 September 2021

رائی کا اک پہاڑ بنانے سے پیشتر

 رائی کا اک پہاڑ بنانے سے پیشتر

کچھ سوچنا تھا شور مچانے سے پیشتر

اک بار بوڑھے باپ کا چہرہ بھی دیکھ لو

دیوار گھر کے بیچ اٹھانے سے پیشتر

ہم نے ہوا کے ساتھ بھی کچھ بات چیت کی

ظلمت کدے میں دیپ جلانے سے پیشتر

اپنی سپاہِ شوق سے کچھ مشورہ بھی کر

سب کشتیوں کو آگ لگانے سے پیشتر

رستے کے پیچ و خم پہ ذرا دھیان دیجیۓ

گھر کے در و دیوار سجانے سے پیشتر

آنکھوں سے خواب نوچ کے ہاتھوں پہ دھر لیے

کوزہ گروں نے چاک گھمانے سے پیشتر


افتخار شاہد

No comments:

Post a Comment