Sunday, 19 September 2021

اپنا محاسبہ کبھی کرنے نہیں دیا

 اپنا محاسبہ کبھی کرنے نہیں دیا

خود بینیوں نے ہم کو سنورنے نہیں دیا

حالات نے اگرچہ سجھائی گداگری

میری انا نے مجھ کو بکھرنے نہیں دیا

طوفاں سے کھیلنے کا رہا شوق عمر بھر

ساحل پہ جس نے مجھ کو اترنے نہیں دیا

المایوں میں قید رہا اپنا سارا علم

قلب و نظر کو ہم نے نکھرنے نہیں دیا

دنیا سے کب کا اٹھ گیا ہوتا میں اے صنم

لیکن ترے خیال نے مرنے نہیں دیا

منزل تو میرے سامنے آتی رہی عبید

جوش جنوں نے مجھ کو ٹھہرنے نہیں دیا


عبیدالرحمٰن

عبیدالرحمان

No comments:

Post a Comment