ایک رشتے کو نبھانے کے لیے
خون دیتا ہوں جلانے کے لیے
اشک آنکھوں میں سجا لایا ہوں
دشت کی پیاس بجھانے کے لیے
پھر کسی غم کا سہارا لیا ہے
اشک پلکوں پہ اٹھانے کے لیے
کتنے رشتوں کو کچل آیا میں
تیرے معیار تک آنے کے لیے
اُس نے پھر مجھ سے لہو مانگا ہے
دُھول کو پھول بنانے کے لیے
شاذ اب رنگ کہاں سے لاؤں
تیری تصویر بنانے کے لیے
شجاع شاذ
No comments:
Post a Comment