Sunday, 19 September 2021

ایک رشتے کو نبھانے کے لیے

 ایک رشتے کو نبھانے کے لیے

خون دیتا ہوں جلانے کے لیے

اشک آنکھوں میں سجا لایا ہوں

دشت کی پیاس بجھانے کے لیے

پھر کسی غم کا سہارا لیا ہے

اشک پلکوں پہ اٹھانے کے لیے

کتنے رشتوں کو کچل آیا میں

تیرے معیار تک آنے کے لیے

اُس نے پھر مجھ سے لہو مانگا ہے

دُھول کو پھول بنانے کے لیے

شاذ اب رنگ کہاں سے لاؤں

تیری تصویر بنانے کے لیے


شجاع شاذ

No comments:

Post a Comment