Tuesday, 12 January 2021

بے بسی رات بھر اٹھائے ہوئے

 بے بسی رات بھر اٹھائے ہوئے

اشک نکلے سحر اٹھائے ہوئے

اوڑھ کر بھوک اپنے بچوں کی

گھرسے نکلا ہوں گھراٹھائے ہوئے

دیکھتے کیا ہو آسماں کو تم؟

اک پرندے کا پر اٹھائے ہوئے

منزلِ خوشنما کے دھوکے میں

چل رہا ہوں سفر اٹھائے ہوئے

میں نہ یوسف نہ مصر کا بازار

کون آئے گا زر اٹھائے ہوئے

بوجھ اٹھانا نہیں تھا اس دل کا

عمر گزری مگر اٹھائے ہوئے

کنجِ وحشت میں جی رہا ہوں امین

اپنے حصے کا ڈر اٹھائے ہوئے


امین اوڈیرائی

No comments:

Post a Comment