بے بسی رات بھر اٹھائے ہوئے
اشک نکلے سحر اٹھائے ہوئے
اوڑھ کر بھوک اپنے بچوں کی
گھرسے نکلا ہوں گھراٹھائے ہوئے
دیکھتے کیا ہو آسماں کو تم؟
اک پرندے کا پر اٹھائے ہوئے
منزلِ خوشنما کے دھوکے میں
چل رہا ہوں سفر اٹھائے ہوئے
میں نہ یوسف نہ مصر کا بازار
کون آئے گا زر اٹھائے ہوئے
بوجھ اٹھانا نہیں تھا اس دل کا
عمر گزری مگر اٹھائے ہوئے
کنجِ وحشت میں جی رہا ہوں امین
اپنے حصے کا ڈر اٹھائے ہوئے
امین اوڈیرائی
No comments:
Post a Comment