Friday, 15 January 2021

اشک پینے نہ درد کھانے سے

 اشک پینے نہ درد کھانے سے

عشق پلتا ہے خوں پلانے سے

کیسے کہدوں تمہاری یاد سے میں

جا نکل جا میرے فسانے سے

اپنے در پر میں ایک آہٹ کا

منتظر ہوں بڑے زمانے سے

میرے گھر ہے ایک میرا وجود

اور برتن ہیں کچھ پرانے سے

روز کرتے ہیں بزم میں رسوا

اشک چھپتے نہیں چھپانے سے

جی رہا ہوں کہ مر گیا ہوں میں

دیکھ جاتا ہے وہ بہانے سے

مسٸلے حل ہوئے ہزاروں امین

ایک آواز کے اٹھانے سے


امین اوڈیرائی

No comments:

Post a Comment