Thursday, 19 November 2020

رکھ دیا میں نے در حسن پہ ہارا ہوا عشق

 رکھ دیا میں نے در حسن پہ ہارا ہوا عشق

آج کے بعد مری جان تمہارا ہوا عشق

چوٹ گہری تھی مگر پاؤں نہیں رک پائے

ہم پلٹ آئے وہیں ہم کو دوبارا ہوا عشق

جھلملاتا ہے مری آنکھ میں آنسو بن کر

آ گیا راس مجھے دل میں اتارا ہوا عشق

سکۂ وقت بدلتے ہی سبھی چھوڑ گئے

ذات کے شہر میں اک عمر سہارا ہوا عشق

جب بھی ہوتی ہے در خواب پہ دستک کوئی

جاگ جاتا ہے ترے ہجر کا مارا ہوا عشق

میری پلکوں سے ٹپکتا ہے لہو بن کے

تیری گلیوں میں شب و روز گزارا ہوا عشق


امین اوڈیرائی

No comments:

Post a Comment