Monday, 13 December 2021

تم مجھے ضروری ہو

 تم مجھے ضروری ہو


جس طرح عبادت میں 

تخلیہ ضروری ہے

دل گداز منظر اور 

سُرمگین کاجل کو

کھیل کو تماشے کو

آنکھ کی ضرورت ہے

خواب کی تمنا اور 

مضطرب خیالوں کو 

نیند کی ضرورت ہے 

تم مجھے ضروری ہو

راستے کو راہی کی 

جام کو صراحی کی 

موتیۓ کے گجرے کو

مخملی کلائی کی

رات کے اندھیرے میں 

شہر کو سپاہی کی

تم مجھے ضروری ہو

گل کٹوری، حسن بھری

حرف حرف ہیروں کی لڑی

جیسے کوئی گل بدن

بدن چرائے بانکپن

چھپائے حجاب میں اپنا پن

کہہ رہی ہو ناز سے

تم مجھے ضروری ہو


منیر فراز

No comments:

Post a Comment