تم مجھے ضروری ہو
جس طرح عبادت میں
تخلیہ ضروری ہے
دل گداز منظر اور
سُرمگین کاجل کو
کھیل کو تماشے کو
آنکھ کی ضرورت ہے
خواب کی تمنا اور
مضطرب خیالوں کو
نیند کی ضرورت ہے
تم مجھے ضروری ہو
راستے کو راہی کی
جام کو صراحی کی
موتیۓ کے گجرے کو
مخملی کلائی کی
رات کے اندھیرے میں
شہر کو سپاہی کی
تم مجھے ضروری ہو
گل کٹوری، حسن بھری
حرف حرف ہیروں کی لڑی
جیسے کوئی گل بدن
بدن چرائے بانکپن
چھپائے حجاب میں اپنا پن
کہہ رہی ہو ناز سے
تم مجھے ضروری ہو
منیر فراز
No comments:
Post a Comment