افسوس تم اوروں کو ملو رات کو تنہا
ہم دن کو ترستے ہیں ملاقات کو تنہا
نے دل ہے نہ تُو ہے نہ کوئی مونس و ہمدم
کھوتے ہیں عبث اپنی ہم اوقات کو تنہا
اللہ اکیلا جو ملے مجھ کو تو سمجھو
اب گوشۂ عزلت سے نکلتا ہی نہیں شیخ
خلوت میں ہے کیا جانیے کس بات کو تنہا
اے سوزؔ کبھی بزم میں رِندوں کی تو آ بیٹھ
کھوتا ہے عبث کوئی بھی اوقات کو تنہا
میر سوز دہلوی
No comments:
Post a Comment