Friday, 4 December 2015

افسوس تم اوروں کو ملو رات کو تنہا

افسوس تم اوروں کو ملو رات کو تنہا
ہم دن کو ترستے ہیں ملاقات کو تنہا
نے دل ہے نہ تُو ہے نہ کوئی مونس و ہمدم
کھوتے ہیں عبث اپنی ہم اوقات کو تنہا
اللہ اکیلا جو ملے مجھ کو تو سمجھو
پایا میں نہیں ناصحِ بدذات کو تنہا
اب گوشۂ عزلت سے نکلتا ہی نہیں شیخ
خلوت میں ہے کیا جانیے کس بات کو تنہا
اے سوزؔ کبھی بزم میں رِندوں کی تو آ بیٹھ
کھوتا ہے عبث کوئی بھی اوقات کو تنہا

میر سوز دہلوی

No comments:

Post a Comment